پولنگ بوتھ میں کیمرے۔۔۔!!! نہ حکومت اور نہ ہی اپوزیشن تو کیا ایجنسیوں نے لگائے ؟ حقیقت سے پردہ اٹھا دیا گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) چئیرمین سینیٹ کے الیکشن کے سلسلے میں بنائے گئے پولنگ بوتھ سے خفیہ کیمرا برآمد ہوا جس کے بعد ایک ہنگامہ مچ گیا۔سینیٹ ہال میں ووٹنگ کی جگہ پر کیمرہ نصب کیا گیا تھا ، پیپلزپارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا کہ سینیٹ ہال سے کیمرا برآمد ہوگیا ہے ، جہاں ووٹ کاسٹ کیا جانا تھا وہاں سے کیمرابرآمد ہوا،اسی حوالے سے سینئر صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ میں ایک بات چینلج کر کے کہتا ہوں کہ پولنگ بوتھ میں کیمرے ایجسنیوں نے نہیں لگائے۔

عارف حمید بھٹی نے مزید کہا کہ میں کمیرا لگانے والے شخص کی تصویر دکھا سکتا ہوں،جس نے بھی یہ حرکت کی بہت فضول حرکت کی۔کیمرے لگانے کی ضرورت ہے جب پہنی ہوئی گھڑی سے بھی تصویر بن جاتی ہے،ایجنسیاں یہ کام کر ہی نہیں سکتیں،یہ کوئی چھچھورا سیاستدان ہے جس نے یہ حرکت کی یا کروائی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر جگہ سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں۔دیکھا جائے کہ ان چار دنوں میں کون کون آیا۔

یہ حرکت کوئی ادارے نہیں کر سکتے۔۔دوسری جانب اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے لیے بنائے گئے پولنگ بوتھ میں خفیہ کیمرے لگانے والے کی تاحیات نا اہلی کا مطالبہ کردیا ، مسلم لیگ ن کے رہنما مصدق ملک نے کہا ہے کہ ایسا کرنے والے کو تاحیات نااہل قرار دیا جائے ، ایسا کرنے والا صادق اور امین نہیں ہے ، ایک طرف الیکشن لڑ رہے ہیں دوسری طرف کیمرے لگا رکھے ہیں ، امید ہے الیکشن کمیشن نوٹس لے گا ، بتایا جائے یہ کیمرے کس کے حکم پر لگے ، اس اقدام سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی دھجیاں اڑائی گی ہیں۔ اس معاملے پر پیپلز پارٹی سمیت اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا،اور اب مظفر شاہ نے سینیٹ کے پولنگ بوتھ سے کیمرا نکلنے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.