رسول اللہ ﷺ نے گھر میں برتن ٹوٹنے کی کیا وجہ بتائی اور دراڑ والے برتن میں کھانے پینے کی ممانعت کیوں؟

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ایک بات مشہور چلی آرہی ہے کہ اگر کسی وجہ سے برتن ٹوٹ جائیں یا کسی جگہ سے چٹخ جائے تو ایسی صورت میں اس برتن کو استعمال کرنا مکروہ ہوتا ہے اور یہ بات تو اس حد تک بھی سنی گئی ہے کہ جس گھر میں ٹوٹا ہوا برتن ہو یا اس برتن کو استعمال کیا جاتا ہو وہاں غربت اپنے ڈیرے ڈال دیتی ہے بلکہ گھر میں کوئی برتن ٹوٹ بھی جائے تو یہ کہاجاتا ہے کہ کوئی ناگہانی آفت آنی تھی جو کہ برتن کے ٹوٹنے سے ٹل گئی تو ایسی صورت میں اس

تحریر میں اس مسئلے کی نہ صرف وحاحت کررہے ہیں بلکہ یہ بھی بتارہے ہیں کہ برتن آخر ٹوٹتا کیوں ہے اور اس کے پیچھے کیا وجہ ہوتی ہے کہ جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں ایک حدیث میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ برتن بھی اللہ کا ذکر کرتے ہیں ۔ ترمذی شریف میں ایک حدیث ہے کہ جب تک برتن اللہ کا ذکر کرتا ہے وہ قائم رہتا ہے اور جب اس برتن کا ذکر موقوف ہوجاتا ہے یعنی جب وہ اللہ کا ذکر کرنا چھوڑ دیتا ہے تو وہ ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ وہ برتن اللہ کے ذکر کی بنیاد پر زندہ تھا آج اگر وہ پیالہ ٹوٹ گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اللہ کا ذکر کرنا چھوڑ دیا تھا لیکن دوسری طرف عقل و دانش تو یہی کہتی ہے کہ ارے یہ پیالہ اتنا قیمتی تھا تم نے توڑ دیا تمہارے ہاتھ سے پھسل گیا اب تم ہی اس کی قیمت کو بھگتو گے لیکن ایک طرف ہمارا ایمان اور یقین یہ کہتا ہے کہ نہیں بلکہ اس برتن نے اللہ کا ذکر موقوف کردیاتھا اور اس کی روحانی اور معنوی روح اس برتن سے نکل گئی تھی تو اللہ نے اس برتن کو فنا کردیا اور توڑ کر زمین پر پھینک دیا تبھی تو فقہاء نے لکھا ہے کہ جس پیالے میں دراذ پیداہوجائے وہ ٹوٹا نہ ہو لیکن س برتن میں ایک لکیر آگئی ہو یا چٹخ گیا ہو تو ایسے برتن میں پانی پینے کو فقہاء نے مکروہ قرار دیا ہے اس میں چائے نہ پیو پانی نہ پیو دراڑ اس لئے پیدا ہوگئی کہ اس برتن نے اب اللہ کا ذکر چھوڑ دیا ہے تو اب ایسے پیالے میں اگر آپ پانی پیئیں گے تو اس کے اثرات بھی آپ کی طبیعت پر پڑیں گے نتیجہ پھر یہ نکلے گا کہ جیسے وہ برتن اللہ کے ذکر سے غافل ہوا ویسے ہی تمہارا دل بھی اللہ کے ذکر سے غافل ہوجائے گالہٰذا ایسی صورت میں اگر گنجائش ہو تو ایسے برتن کو پورا توڑ کر کچرے میں پھینک دیں اس کو استعمال نہ کریں لیکن اگر غربت و افلاس ہے تو پھر پیالےکے دوسری طرف سے پا نی پی لیں جہاں پر دراڑ نہ ہو تا کہ جو دنیاوی نقصان کا اندیشہ ہے اس سے بچ جائیں اس کو استعمال نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ٹوٹے ہوئے پیالے کو استعمال کرنے سے اندیشہ یہ ہو گا کہ کہیں آپ کو نقصان نہ پہنچ جائے اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ پیالہ جس جگہ سے ٹوٹا ہوتا ہے وہاں میل کچیل زیادہ جم جاتی ہے تو صفائی نہ ہونے کی وجہ سے ایسے برتن کا استعمال کرنا مکروہ ہوجاتا ہے یہ ہے وہ اصل بات کہ جسے اکثر لوگ نہیں جانتے اور لوگ برتن ٹوٹنے کی عجیب عجیب کہانیاں گھڑ کر لوگوں کو توہمات کا شکار بنارہے ہیں ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.