کابینہ میں بھی رد و بدل کا امکان! پُرانے دوستوں کی واپسی، حفیظ شیخ کی بجائے وزارت خزانہ کس کے حوالے کی جائے گی؟ تہلکہ خیز انکشاف

پہلی بار حکومت اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔چوہوں کو بھی انجام تک پہنچایا جائے گا اور وہ جنہوں نے لندن میں رقم وصول کی ہے، وہ بھی بے نقاب ہونے والے ہیں۔ روزنامہ جنگ میں شائع منصور آفاق نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ ۔۔ ڈسکہ پر شور اور یوسف رضا گیلانی پر سکوت بھی کسی طوفان کا پیشہ خیمہ بننے والا ہے۔ مجھے عمران خان کو دیکھ کر ایسا لگا ہے جیسے سوئے ہوئےشیر کو جگا دیا گیا ہے۔ آنے والے کل میں عمران خان وہ نہیں ہوگا جیسا پچھلے اڑھائی سال رہا۔ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔ تمام سیاسی بزرجمہر کہتے ہیں کہ عمران خان نواز شریف اور آصف علی زرداری کی کرپشن کو بھول جائیں اور آگے

بڑھیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان نے22 سال پہلے جو انصاف کی تحریک شروع کی تھی، وہ اس سے دستبردار ہوجائیں ،یہ کیسے ممکن ہے۔ عمران خان آج سے پھر حسن نثار کے دئیے ہوئے ’’دو نہیں ایک پاکستان‘‘ کے وژن پرچلنے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں ۔ وہ اپنے تمام دوستوں کو واپس بلا رہے ہیں جن میں ہارون الرشید اور جہانگیر ترین جیسے اہم نام شامل ہیں۔ کابینہ میں بھی رد و بدل کا قوی امکان ہے۔ ان کے اسپیشل اسسٹنٹ بھی تبدیل ہونگے۔ ایم این ایز کو زیادہ ذمہ داریاں ملیں گی۔

حفیظ شیخ کی بجائے وزارت خزانہ کسی اور کے حوالے کی جائے گی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حفیظ شیخ کو رہنا چاہئے کیونکہ وہ ایک ٹیکنو کریٹ ہیں مگر سوال پیدا ہوا تھا کہ وہ ٹیکنو کریٹ تھے تو انہیں سینٹ کے انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہئے تھا۔ عامر کیانی کے دوبارہ وزیر بنائے جانے کا امکان ہے۔ سیف ﷲ نیازی کو بھی کوئی بڑا عہدہ ملنے والا ہے۔ مونس الٰہی کے بھی وزیر بننے کے امکانات ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.