کونڈے کا ختم جائز ہے ؟کونڈوں کی حقیقت

مکہ سے لے کر مدینہ تک اور مدینہ سے لے کر پوری دنیا تک اگر آپ ساری دنیا کو چھان لیں تو آپ کو تاریخِ اسلام کے اندر کونڈوں کا کوئی بھی ایک ایسا جزو بھی نہیں ملتا جو بائیس رجب کا کونڈوں کا ختم دلانا مقصود ہو اسلام کے اندر ہر زمانے میں کوئی نہ کوئی ایک ایسی چیز ہے جو مسلمانوں

کو یا تو پتہ ہے اس کے بارے میں یا تو نہیں پتا لیکن مسلمان وہ چیز کر رہے ہیں نمازوں کے بارے میں پتہ ہے تووہ پڑھ رہے ہیں لیکن کچھ ایسی عبادات ہیں ایسے اخلاقیات ہیں جن کے بارے میں مسلمانوں کو پتہ ہے تو کچھ کو پتہ ہے اور کچھ کو نہیں پتہ اسی طرح ہی ایک ایسی چیز ہے ایک ایسا دن آتا ہے بائیس رجب کا دن جس دن ہم تمام لوگ تمام مسلمان کونڈے کے نام سے اس کو یاد کرتے ہیں۔کونڈے پورے پاکستان کے اندر بلکہ پورے عالم اسلام کے اندر یہ تہوار منایاجاتا ہے اور ہم بچپن سے ہی دیکھتے آرہے ہیں کہ ہمارے گھر والے ہمارے رشتہ دار ہمارے دوست احباب کونڈوں کے دن مختلف قسم کے حلوے بنائے جاتے ہیں نان تقسیم کئے جاتے ہیں اس طرح کا ایک تہوار منایا جاتا ہے لوگوں کو اکٹھا کر لیاجاتا ہے ان کو دعوت کھلائی جاتی ہے۔اگر تاریخ کو پڑھ لیا جائے تاریخ کے اوراق کھنگال لئے جائیں اور کتابوں کو چھان لیاجائے تو آپ کو کونڈوں کا لفظ تاریخ اسلام میں کہیں بھی نہیں ملتا مکہ سے لے کر مدینہ تک اور مدینہ سے لے کر پوری دنیا تک اگر آپ ساری دنیا کو چھان لیں تو آپ کو تاریخ اسلام کے اندر کونڈوں کا کوئی بھی ایک ایسا جزو بھی نہیں ملتا جو بائیس رجب کو کونڈوں کا ختم دلانا مقصود ہو کچھ لوگوں کا کہنا ہے

کہ بائیس رجب کو جعفر صادق ؒ کی ولادت ہوئی تو ان کی ولادت کی خوشی میں یہ تہوار منایا جاتا ہے لیکن ان کی ولادت کی تاریخ یہ نہیں ہے یہ کام 1906 میں ایک بادشاہ نے شروع کیا جو کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بہت زیادہ خلاف تھا اپنی مملکت کو مسلمان کہتا تھا اپنے آپ کو مسلمان کہتا تھا اپنی رعایا کو بھی مسلمان ہی کہتا تھا لیکن صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بہت زیادہ خلاف تھا تو اس نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف ایک دن منانے کا سوچا کہ انہوں نے کہا کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف ایک دن مناتے ہیں اور اس دن خوشی منائیں گے تو اس دن انہوں نے پوڑیاں وغیرہ بنائیں اور حلوے بنائے اور لوگوں کی دعوتیں کی تو اس دن اس نے اس کا نام کونڈے رکھ دیا تو آج تک ہماری ماؤں نے ہماری بہنوں کو پتہ

ہی نہیں ہے کہ آج ہم کس چیز کی خوشی منا رہے ہیں حقیقت میں بائیس رجب کا دن حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا دن ہے لیکن اس شخص نے یہ ایک تہوار کی صورت میں منانے کا سوچا اور پوری دنیا کے اندر ہم مسلمان اس کو ایک تہوار کی صورت میں مناتے ہیں لیکن ہمیں اس کے بارے میں کچھ خبر نہیں ہے کہ یہ ہے کیا؟ہم نے اس کو اپنے اوپر مسلط کر لیا ہوا ہے ہماری مائیں ہماری بہنیں ہمارے رشتہ دار تمام لوگ باقاعدگی کے ساتھ یہ تہوار مناتے ہیں اور ختم دلاتے ہیں لیکن ان کو کسی شے کا کوئی پتہ نہیں فرقوں سے دوررہ کر سوچئے گا۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.