وفات سے کچھ دیر قبل مشاہد اللہ کا حامد میر کے نام آخری پیغام! سیاسی خیالات میں تبدیلی، کیا کہتے رہے؟ سینئر صحافی نے آڈیو پیغام شیئر کر دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے وفات سے کچھ عرصہ قبل مشاہد اللہ کی جانب سے بھیجا جانے والا آڈیو پیغام شئیر کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں سینئیر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ سینیٹر مشاہد اللہ خان کاوفات سے کچھ عرصہ قبل ایک آڈیو پیغام جس میں انہوں نے اپنے سیاسی خیالات میں تبدیلی کا اعتراف کیا

۔انہوں نے آڈیو پیغام شئیر کیا جس میں مشاہد اللہ نے کہا کہ مجھے آپ کا نوٹی فکیشن مجھے ملا ، میری اخبارات پڑھنے کی عادت بچپن سے ہی ہے، میری کبھی آپ کے والد سے ملاقات تو نہیں ہوئی لیکن میں اُن کا نام اخباروں میں پڑھا کرتا تھا، اور ان کی جو بجی جدو جہد تھی ، ایسے کم لوگ تھے جنہوں نے پاکستان میں ہونے والے کاموں کی اس وقت مخالفت کی تھی۔مشاہد اللہ نے کہا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں خود بھی آپ کے والد کی رائے کا قائل اس لیے بھی نہیں تھا کیونکہ میں نوجوان تھا، جو اخبارات لکھتے تھے ہماری وہی رائے تھی، لیکن کچھ عرصہ کے بعد ہماری رائے بھی وہی ہو گئی تھی جو آپ کے والد کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ چاند کو گرہن تو کوئی نہیں لگا سکتا۔ اس زمانے میں بہت سارے لوگوں کو غدار کہا گیا تھا

اور ایک اخبار صوبائی خود مختاری کی بھی کوشش کرتا تھا تو اسے بھی غدار کہا جاتا تھا، میں بھی یہی سمجھتا تھا لیکن بڑے ہونے کے بعد پتہ چلا کہ حقیقت کیا ہے۔ مشاہد اللہ نے اپنے آڈیو پیغام میں حامد میر کے والد کی تعریف کی اور انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پیش کی جانے والی قرارداد پر بھی بات کی اور کہاکہ ایسے لوگوں کو ہم قراردادیں پیش کر کے ہی خراج تحسین پیش کر سکتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد اور مؤقف ہمیں ان کے جانے کے بعد سمجھ آیا تھا۔ مشاہد اللہ نے حامد میر کو بھیجے جانے والے اپنے آڈیو پیغام میں کہا کہ میرے لائق کوئی خدمت ہوئی تو بتائیے گا، میں فی الوقت پارلیمنٹ بھی نہیں جا رہا ، میری صحت کی وجہ سے مجھے منع کر دیا گیا ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.