کچھ بڑا کرنے کا وقت آگیا! سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آصف زرداری نے اسلام آباد میں کیوں ڈیرے ڈال لیے؟ سابق صدر کے خطرناک ارادے سامنے آگئے

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ جب سینیٹ کا معرکہ سجے گا تو پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کی پوری کوشش ہے کہ مؤثر حکمت عملی طے کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کے اندر تقسیم ہو گئی ہے اگر ان کے مابین آپسی تقسیم نہ ہوئی ہوتی تو شاید وہ پہلے سے بھی ایک آدھ سیٹ زیادہ لے جاتے۔ اس تقسیم کو شاید دوسری پارٹیاں ختم کرنے کی کوشش کریں یا شاید ختم کر بھی دیں۔ ایک بات ذہن میں رکھنی چاہئیے کہ جب آصف علی زرداری کی حکومت تھی تو چوہدری پرویز الٰہی ڈپٹی وزیراعظم تھے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے

کہا کہ آصف علی زرداری کا خود کراچی سے آ کر اسلام آباد بیٹھنا ، میں اس کو اہم سمجھ رہا ہوں ۔ زرداری صاحب بغیر کسی وجہ کے کراچی سے آ کر اسلام آباد میں نہیں بیٹھے۔وہ بلا شُبہ کچھ کرنے آئے ہیں اور وہ کیا کرنے آئے ہیں، عمران خان کو یہ دیکھنا ہے کہ ان کی پارٹی میں پیپلز پارٹی سے کون کون لوگ آئے ہیں اور اُن میں بھی دیکھنا ہو گا کہ اسمبلیوں میں کون کون سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔

کیونکہ اسمبلیوں سے باہر بیٹھے لوگوں میں زرداری صاحب کو کوئی دلچسپی نہیں ہو گی۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ زرداری صاحب کی حکومت میں جو جو لوگ ان کے اتحادی رہے ہیں وہی آج عمران خان کے اتحادی بھی ہیں، جہانگیر ترین کا جو بہت بڑا حلقہ ہے جس میں بہت زیادہ لوگ پیپلز پارٹی سے ہی ٹوٹ کر گئے تھے اور اسمبلی میں گئے تھے اور اب زرداری صاحب نے بھی اسلام آباد میں ڈیرے ڈال لیے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ وہ اب یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر بنوا کر ہی جائیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.