باتیں کرنے والا طوطا

ایک آدمی نے طوطا رکھا ہوا تھا۔ طوطا باتیں کرتا تھا۔اس آدمی نے کہا کہ میں دور کے سفر پر جارہاہوں‘ وہاں سے کوئی چیز منگوانی ہو تو بتا۔طوطے نے کہا کہ وہاں تو طوطوں کا جنگل ہے‘ وہاں ہمارے گُرو رہتے ہیں‘ ہمارےساتھی رہتے ہیں‘ وہاں جانااور گرو طوطے کو میرا سلام کہنااور کہنا کہ ایک غلام طوطا‘ پنجرے میں رہنے والا ‘ غلامی میں پابند‘ پابند ِ قفس ‘ آپ کے آزاد طوطوں کو سلام کرتا ہے۔سوداگر وہاں پہنچا

اور اس نے جاکر یہ پیغام دیا۔ اچانک جنگل میں پھڑ پھڑ کی آواز آئی‘ ایک طوطا گِرا‘ دوسرا گِرا اور پھر سارا جنگل ہی مرگیا۔سوداگر بڑاحیران کہ یہ پیغام کیاتھا‘ قیامت ہی تھی۔ اداس ہوکے چلا آیا۔واپسی پر طوطے نے پوچھا کہ کیا میرا سلام دیاتھا؟اس نے کہا کہ بڑی اداس بات ہے‘ سلام تو میں نے پہنچا دیا مگر تیرا گرو مرگیا اور سارے چیلے بھی مر گئے۔ اتنا سننا تھا کہ وہ طوطا بھی مرگیا۔سوداگر کو بڑا افسوس ہوا۔ اس نے مردہ طوطے کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ طوطا فوراً اُڑگیا اور شاخ پر بیٹھ گیا۔اس نے پوچھا یہ کیا؟طوطے نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میں نے اپنے گُرو طوطے سے پوچھاتھا کہ پنجرے سے بچنے کا طریقہ بتا۔اس نے کہا کہ مرنے سے پہلے مرجا۔ اور جب میں مرنے سے پہلے مرگیا تو پنجرے سے بچ گیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.