راستہ صاف۔۔!! برطانیہ نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے کے لیے کیا کرنے جا رہا ہے؟ (ن) لیگیوں کے لیے انتہائی بُری خبر

لاہور( نیوز ڈیسک ) سابق وزیراعظم نواز شریف کو ملک واپس کیسے لایا جائے گا؟ اس حوالے سے سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا کہ برطانیہ نواز شریف کو ڈی پورٹ کر سکتا ہے۔بین الاقوامی معاہدے میں کوئی پابندی نہیں ہوتی کہ ہر صورت اس پر عمل درمآمد ہو گا۔یہ ایک ملک کا دوسرے ملک کے لیےاحترام ہوتا ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر کار بند ہیں۔جب کہ برطانوی قانون کے

ماہر بیرسٹر معین خان نے کہا ہے کہ حکومت کو خط لکھنے سے کوئی نہیں روک سکتا لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ جب نواز شریف برطانیہ گئے تو کیا اس پس منظر میں پاکستان اور برطانیہ کے مابین کوئی معاہدہ ہوا؟۔اس کا جواب نفی میں ہے۔اگر نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنا چاہتے ہیں تو یہ برطانیہ کا داخلی معاملہ ہے اور اس ضمن میں برطانوی قوانین لاگو ہوں گے،نواز شریف بید خلی کے آرڈر کو چیلنج کر سکتے ہیں اور اپنے خلاف آنے والے فیصلہ پر اپیل بھی کر سکتے ہیں۔اگر پاکستان کی حکومت چاہتی ہے کہ نواز شریف کو واپس پاکستان لایا جائے اور وہ انٹرپول کا استعمال کرنا چاہے تو سب سے پہلے دیکھنا ہو گا کہ یہ فیصلہ عدالت کی طرف سے آیا ہے کہ نواز شریف کو پاکستان واپس بھیجا جائے۔یہ ایک اہم قانونی نکتہ ہو گا۔اس کے بعد انٹر پول کو ریڈ وارنٹ کی درخواست کریں گے۔انٹرپول کا اپنا ٹیسٹ ہے وہ دیکھیں گے کہ اس کے پیچھے کوئی سیاسی عوامل تو نہیں ہیں؟۔اگر انٹرپول مطمئن ہو جائے تو وہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کو نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست کرے گا۔خیال رہے کہ حکومت نے لندن میں زیر علاج سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی وطن واپسی کے لیے برطانوی حکومت کو خط لکھ دیا، پنجاب حکومت کی سفارش پر وزارت خارجہ کے ذریعے برطانوی حکومت کو خط لکھا گیا ہے۔میڈیا رپو رٹس کے مطابق وفاقی حکو مت نے سابق وزیر اعظم نو از شریف کو واپس لا نے کے لئے برطانو ی حکو مت سے رابطہ کر لیا ہے خط کے متن میں کہا گیا ہیکہ نواز شریف سزا یافتہ مجرم ہیں لہٰذا انہیں واپس بھجوایا جائے تاکہ وہ اپنی سزا پو ری کر سکے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.