اربوں کی جائیدیں، مولانا فضل الرحمن کا ’’یوم حساب‘‘ بھی قریب ہے، تہلکہ خیز دعویٰ

نوشہرہ کینٹ(آن لائن) وزیر دفاع پرویز خان خٹک نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا ’’یوم حساب‘‘ بھی قریب آچکا ہے ، وہ قوم کو بتائیں کہ ان کے پاس اربوں روپے کی جائیداد کہا ں سے آئیں،مولانافضل الرحمان،سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف،سابق صدر آصف علی زرداری سمیت سب چوروں کا مقدر جیل ہے،قوم بہت جلد ان سب کو سلاخوں کے پیچھے دیکھیں گی

مولانا فضل الرحمان پہلے نواز شریف اور اصف علی زرداری کی چوری بچانے کے لیے احتجاجی تحریک چلا رہاہے اب اس کے گرد گھیرا تنگ ہورہاہے تو اب اس کو اپنی پڑ چکی ہے اسلیے اب وہ یو ٹرن لے رہے اور کہ رہے کہ اداروں کے ساتھ ہماری کوئی لڑائی نہیں 26مارچ کے لانگ مارچ اپوزیشن کے پاس کوئی جواز نہیں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت ان کی بلیک میلنگ میں ہر گز نہیں آئیں گی یہ لانگ مارچ کی خواہش پوری کریں ایک سال تک اسلام آباد میں رہیں ہماری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اگر انہوں نے قانون ہاتھ میں لیا تو پھر سختی سے نمٹا جائیگا، اپوزیشن جماعتیں سینٹ انتخابات میں خریدو فروخت کرنے کی خواہشمند ہے اس لیے وہ سینٹ انتخابات اوپن بلیٹ پر کرانے کی مخالفت کررہی ہے ماضی میں ان دوبڑوں جماعتوں نے سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ پر کرانے کے لیے میثا ق جمہوریت پر دستخط کیے لیکن اج یہ جماعتیں اس کی مخالفت کررہی ہے جو سمجھ سے بالا تر ہے اپوزیشن کو سینٹ میں شفاف الیکشن کے لیے حکومت کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ ہارس ٹریڈنگ اور ضمیر کا سودا کرنے والوں کا پتہ چل سکیں انتخابات جس طریقے سے بھی ہوں حکومت اپنے حصے کی مخصوص سیٹیں جتیں گی اور حکومت اپوزیشن کو خریدو فروخت کے ذریعے زیادہ سیٹیں جتنے نہیں دیں گی وہ میٹھا خیل خویشگی بالا میں یونین کونسل گنڈیری اور یونین کونسل خویشگی بالا اور میرہ خویشگی پایان میں نئے فیڈر کے افتتاح کے بعد ایک بڑے جلسے عام سے خطاب کررہے تھے س موقع پر قومی اسمبلی میں مجلس قائمہ برائے توانا ئی وقدرتی وسائل کے چیرمین ڈاکٹر عمران خٹک، رکن صوبائی اسمبلی ابراہیم خان خٹک، نوشہرہ چیمبر اف کامرس کے صدر زر عالم خان،سابق ضلعی کونسلر طفہیم خان،زرتاج خان افریدی،فضل کریم حیات علی خان اعوام نے بھی خطاب کیا پرویز خان خٹک نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل تمام سیاسی جماعتیں اپنے مفاد کے لیے سیاست کررہے ہے ان کا عوامی مفاد کے ساتھ دور دور کا تعلق نہیں 26مارچ کو پی ڈ ایم کا اسلام اباد لانگ مارچ ان کے جلسے جلوسوں کی طرح فلاپ ہوجائیں گا کیونکہ عوام باشعور ہے وہ جانتے ہے کہ ان کا یہ اتحاد صرف اپنی کرپشن اور چوری بچانے کے لیے ہے اسلام اباد لانگ مارچ کے بعد ان کو اپنی حثیت کا اندازہ ہوجائیں گا پرویز خان خٹک نے کہا کہ پی ڈی ایم کا اسلام اباد لانگ مارچ کو مہنگائی مارچ کا نام دینا انہتائی مضحکیہ خیز ہے کیونکہ پی ڈی ایم میں شامل پی پی پی،مسلم لیگ ن دیگر جماعتوں کی وجہ سے ملک اس وقت معاشی مسائل اور مہنگائی کا شکار ہے کیونکہ ان جماعتوں نے اپس میں باریاں بانٹ بانٹ کر ملکی خزانے کے ذریعے اپنی تجوریاں بھر کا پاکستان کے مستقبل کو روشن کرنے کے بجائیں اپنے بچوں کے مستقبل کو روشن کیا یہ کس منہ سے ا س لانگ مارچ کو مہنگائی مارچ کا نام دے رہے پرویز خان خٹک نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان سینٹ انتخابات میں شفافیت چاہتے ہے جس کے لیے وہ سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ پر کرانے کے خواہشمند ہے لیکن اپوزیشن کا سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے ہونے کی راہ میں روکاٹ سے ان کا چہر ہ لوگوں کے سامنے عیاں ہوگیا ہے کہ یہ اصل میں سینٹ انتخابات میں خرویدو فروخت چاہتے ہے جو ہم کسی صورت اپوزیشن کو کرنے نہیں دیں گے پرویز خان خٹک نے کہاکہ اپوزیشن جاعتوں سے وزیر اعظم عمران خان کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں بس وزیر اعظم عمران خان ان سے قوم کے پیسوں کا حساب مانگ رہے ہے جس کے لیے ان جماعتوں نے وزیرا عظم عمران خان کو دباؤ میں لانے کے لیے پی ڈ ی ایم کا سہرالیا اور جلسے جلوسوں اور لانگ مارچ کے ذریعے وزیر اعظم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کی ناکام کوشش کررہے ہے اور اپوزیشن اپنی اس کوشش میں فلاپ ہوچکے ہے کیونکہ عوام نے ان سیاسی جماعتوں کے الحاق کو مسترد کردیا ہے کیونکہ عوام کو ان اصل چہرہ معلوم ہوگیا ہے یہ تمام پارٹیاں صرف اپنی ذاتی مفاد اور چوری بچانے کے لیے نکلیں ہے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان پہلے نواز شریف اور اصف علی زرداری کی چوری بچانے کے لیے احتجاجی تحریک چلا رہاہے اب اس کے گرد گھیرہ تنگ ہورہاہے تو اب اس کو اپنی پڑ چکی ہے پرویز خان خٹک نے کہا میر ی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ نوشہرہ میں ساری چور پارٹیاں ایک طرف ہوجائیں اور اکیلی تحریک انصاف ان کو پھر بھی شکست دی گئی پچھلے ضمنی انتخابات میں بھی یہ ساری پارٹیاں تحریک انصاف کے خلا ف متحدہ ہوئی تھی اور پھر بھی ان کو شکست فاش ہوا تھا اب بھی میاں عمر کاکا خیل کے خلاف چور اکھٹے ہوچکے ان سب کو ایسی شکست دیں گے کہ ان کو چھٹی کا دودھ یادآجائیگا انہوں نے کہاکہ یہ پارٹیاں چھپتی پھریں گی ان کو کوئی ووٹ نہیں دے گا کیونکہ کہ ان کا نوشہرہ میں کوئی نام ونشان نہیں انہوں نے نوشہرہ کے عوام کی کوئی خدمت نہیں کی یہ کس منہ سے لوگوں کے پاس جائیں گے اور ووٹ مانگے گے نوشہرہ میں ان پارٹیوں کا نام ونشان ہم نے مٹادیا ہے یہ پانچ پارٹیاں ملتی ہے یا سار ا پاکستان ان کے ساتھ ہوں شکست ان کا مقدر ہے انہوں نے کہا کہ یہ صرف تین یونین کونسلوں میں تین ارب روپے ایرگیشن کے مد میں جبکہ دس ارب توپے سڑکوں تعلیم صحت پینے صاف پانی کی فراہمی کی مد میں خرچ ہوئے بڑے منصوبے پایہ تکیمل تک پہنچ چکے ہے اور کچھ پر کام جاری ہے انہوں نے کہا کہ میرا پورا خاندن دن رات عوام کی خدمت میں لگا رہتا ہے جب کہ اپوزیشن والے انتخابات کے وقت بلوں سے نکل اتے ہے اور پھر ان کا سالوں سال پتہ نہیں چلتا پرویز خٹک نے مزید کہا کہ نوشہرہ کے عوام مسائل اور مشکلات سے بخوبی اگاہ ہوں نوشہرہ واحد ضلع ہوں گا کہ جس گھر گھر بجلی اور گیس پہنچے گی بجلی کا نظا م ٹھیک کررہے ہے پرویز خٹک نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے مجھے پورے پاکستان ترقیاتی منصوبوں کا سربراہ منتخب کیا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بھی مذاکرات کا اختیار مجھے دیا ہے اور اگر میں صوبے کا وزیراعلی بنا یا وزیر دفاع مجھے یہ عزت نوشہرہ کے عوام نے دی ہے اور میں نوشہرہ کے عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.