بینظیر بھٹو نے پہلی بار آصف زرداری سے شادی سے انکار کر دیا تھا ، پھر ایک ملاقات میں وہ کیسے انکی دیوانی ہو گئیں ؟ حیران کن حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار چوہدری خادم حسین اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی بختاور کی بابل کے گھر سے رخصتی قریب آ گئی۔ ان کی شادی کی تقریبات کا آغاز 27جنوری سے ہو رہا ہے اور ولیمہ تک کی دعوت بھی کراچی ہی میں ہوگی۔کورونا کی وجہ سے مدعوئین کی تعداد مختصر رکھی گئی ہے اور اس موقع پر بہت سے لوگ محروم رہیں گے،

تاہم جیالوں کے لئے بختاور کا وعدہ ہے کہ جونہی حالات ذرا سازگار ہوئے وہ ان کو دعوت دیں گی، وہ اس شادی سے خوش ہیں کہ ان کی رضا مندی بھی شامل ہے، جبکہ ان کی والدہ کی شادی اگرچہ ان کی مرضی معلوم کرکے ہوئی تھی، تاہم ”دختر مشرق“ میں خود محترمہ کی تحریر کے مطابق وہ ملکی حالات اور سیاسی مصروفیات کے باعث شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں، لیکن ان کی والدہ اور خالہ نے مل کر مجبور کیا کہ سیاست ہی کے لئے شادی ضروری ہے کہ ایک نوجوان لڑکی کا اکیلے ہی رہنا سیاسی طور پر مفید نہیں ہوگا، چنانچہ جب ان کی رضا مندی ہو گئی تو بزرگوں نے آصف علی زرداری کا نام تجویز کیا، محترمہ کہتی ہیں کہ انہوں نے ابتدا میں یہ تجویز مسترد کر دی تھی، تاہم بیگم نصرت بھٹو نے مجبور کیا اور کہا کہ وہ آصف سے ایک ملاقات تو کر لیں، چنانچہ یہ ملاقات ہوئی اور پھر ”آصف زرداری سب پر بھاری“ نے یہ معرکہ سر کر لیا اور محترمہ نے نہ صرف رضامندی بلکہ شادی جشن کے طور پر ہوئی۔ غالباً اسی بنا پر بختاور بھٹو نے کارکنوں سے معذرت کی اور یقین دلایا کہ وہ بھولی نہیں ہیں۔یہ ایک ایسے سیاسی خاندان میں خوشی کی تقریب ہوگی، جو 1977ء کے بعد سے مستقل غم اور قربانیوں کے بوجھ تلے دبا چلا آ رہا ہے اور گڑھی خدا بخش کے مقبرہ میں خود بے نظیر بھٹو اپنے والد، والدہ اور بھائیوں کے ساتھ جا ملی تھیں، اس پر اعتراض بھی بہت ہے تاہم یہ بھٹو خاندان اور جیالوں کا ذاتی معاملہ ہے، ہم اس پر کوئی رائے نہیں دیتے، بہرحال یہ حقیقت تو ہے کہ بھٹو سے لے کر بے نظیر بھٹو مرتضیٰ بھٹو اور شاہ نواز بھٹو بھی غیر قدرتی موت کا شکار ہوئے جبکہ بیگم نصرت بھٹو پے در پے صدمات کی وجہ سے طویل علالت اور حواس سے بے گانہ ہو کر اللہ کے حضور حاضر ہوئیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.