سعودی شخص اور مصری عورت

سعودی عرب میں ایک ہوٹل کے استقبالیہ پر کام کرنے والے ایک مصری شخص کو حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں وہ مکمل نقاب میں ملبوس ایک ساتھی ملازم خاتون کے ساتھ ناشتہ کرتا نظر آ رہا ہے۔باہا کے نام سے معروف اس مصری شخص کو

جدہ کے ایک ہوٹل میں اپنی ساتھی ملازمہ کے ساتھ ناشتا کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے پر اتوار کے روز گرفتار کر لیا گیا۔ اس مختصر سی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون مکمل طور پر پردے میں ہے اور ناشتہ کر رہی ہے۔ یہ سعودی قانون کی خلاف ورزی تھی جس کے مطابق کام کرنے یا کھانے پینے کے مقامات پر خواتین اور مرد وں کے بیٹھنے کی جگہ الگ ہونا ضروری ہے۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے پر ہر جگہ سعودی قانون کو لے کے بحث شروع ہو گئی ہے کیونکہ اس ویڈیو سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ عملی طور پر مذکورہ قانون کا نفاذ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔لوگوں کے سخت ردعمل کے بعد باہا نے ایک دوسری ویڈیو بھی شیئر کی جس میں اس نے بتایا کہ لوگوں کے ردعمل نے بات کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے حالانکہ وہ تو صرف ایک ساتھی ملازم خاتون کے ساتھ ناشتہ کر رہا ہے۔ اب باہا کو کچھ عرصہ جیل کا ناشتہ کھانا ہوگا ۔توقع ہے کہ اسے سزا کے طور پر مصر ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔سوشل میڈیا پر صارفین تنقید کر رہے ہیں کہ ایک ساتھ ناشتہ کرنے پر صرف مرد کو سزا کیوں دی گئی، عورت کو کیوں چھوڑ دیا گیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.