امریکی صدر کاسعودی عرب کی حمایت ختم کرنےکے فیصلے کے بعد سعودی عرب نے اہم ترین اعلان کر دیا

سعودی عرب نے امریکی صدر جوزف بائیڈن کے گذشتہ روز جاری ہونیوالے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب کو ایرانی حمایت یافتہ عناصر کی طرف سے خطرات لاحق ہیں۔ امریکا سعودی عرب کی خود مختاری اور اپنے وطن کے دفاع کے لیے کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔سعودی عرب کی وزارت

خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں امریکی صدر کے سعودی عرب کی خود مختاری کی حمایت سے متعلق بیان کا خیرم مقدم کیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب امریکا کے ساتھ مل کر خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کام جاری رکھے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکت اور خطے کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سامنا ہے۔

ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی کی روک تھام کیلئے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ایس پی اے کے مطابق وزارت خارجہ نے شام میں جنگ بندی اور تنازع کے سیاسی اور سفارتی حل سے متعلق اپنے اصولی موقف سے بھی آگاہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب یمن کے بحران کا جامع اور پرامن سیاسی حل چاہتا ہے۔ سعودی عرب یمن میں اقوام متحدہ کے امن مندوب مارٹن گریفتیھس کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔سعودی عرب کا کہنا ہے کہ مملکت یمن میں اقوام متحدہ کے مندوب ، امریکا کے خصوصی ایلچی ٹیم لینڈر کنگ اور دیگرعلاقائی اور عالمی قوتوں کے ساتھ مل کر یمن کے بحران کے جامع حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔ یمن میں دیر پا امن کیقیام کے لیے سعودی عرب سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر عمل درآمد پر زور دینے کے ساتھ خلیجی ممالک کی طرف سے پیش کردہ امن فارمولے اور یمنی قوتوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے ذریعے تنازع کے حل کا خواہاں ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب یمن میں انسانی بحران کے حل میں مدد کے لیے تواتر کے ساتھ مالی مدد کررہا ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران سعودی عرب نے یمن میںبحالی اور شہریوں کی بہبود کے لیے 17 ارب ڈالر کی خطیر رقم صرف کی ہے۔واضح رہے کہ امریکا یمن کے بارے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی پر نظرثانی کررہا ہے اور وہ وہاں’’جارحانہ جنگی آپریشنز‘‘ کی حمایت کے خاتمے کا اعلان کردے گا۔وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلی وان نے

واشنگٹن میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ

صدر جوزف بائیڈن یمن میں جارحانہ کارروائیوں کے لیے امریکا کی حمایت کے خاتمے کا اعلان کردیں گے۔انھوں نے ان اطلاعات کی بھی تصدیق کی ہے کہ صدر بائیڈن یمن کے لیے اپنے خصوصی ایلچی کا تقرر کررہے ہیں۔ذرائع نے عرب ٹی وی کو بتایا ہے کہ امریکی صدر نے سفارت کار ٹموتھی لنڈرکنگ کو یمن کے لیے اپنا ایلچی مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وہ اس سے پہلے سعودی دارالحکومت الریاض میں امریکی سفارت خانے میں سینئر عہدے دار تعینات تھے۔جب سلی وان سے اس تقرر سے

متعلق پوچھا گیا کہ کیا اس کے بارے میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے تو انھوں نے اس کا ہاں میں جواب دیا اورکہا کہ ہم کسی کو حیران نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔انھوں نے کہا کہ امریکا خطے میں اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں سے رابطے میں ہے اور وہ صدر کے اس فیصلے کو سمجھتے ہیں۔صدر بائیڈن یمن کے بارے میں امریکا کی پالیسی سے متعلق آج تفصیلی اظہارخیال کررہے ہیں۔ مشیر قومی سلامتی کونسل نے بتایا کہ ’’صدر یمن میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارت کاری میں امریکا کے مزید فعال کردار اورشرکت کے بارے میں بھی گفتگو کریں گے۔‘‘

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.