دوبیٹیاں تھیں چھوٹی بیٹی گونگی تھی دروازہ کھولا بیٹی کپڑوں سے بے نیاز تھی

میرے بہنوئی سید صفدر علی خواجہ اجمیر نگری تھانے کے ایس ایچ او ہیں۔اکثر جب کوئی عورت کسی ج رم میں گرف تار ہو کر تھانے لائی جاتی ہے تو صفدر بھائی مجھے فون کر کے بلا لیتے ہیں۔ میں جرنلزم میں ماسٹرز کر رہی ہوں اور امی اور ابو کی شدید مخال فت کے باوجود مستقبل میں کرائم

ریپوٹر بنے کا ارادہ ہے۔ آج بھی میں نے ابھی بمشکل گھر میں قدم رکھے ہی تھے کہ میرے موبائل پر بیپ ہوئی۔ فون صفدر بھائی کا تھا اور تھانے یاترا کی دعوت تھی۔میں الٹے پیر امی کی ہیں ہیں کہاں چل دیں کا جواب دیتی تیزی سے باہر نکل گئ۔ شکر کے گلی کی نکڑ پر ہی رکشا بھی مل گیا۔ تھانے پہنچ کر سلام دعا سے

فراغت کے بعد کیس کا پوچھا۔ م ڈر کیس ہے۔ ٹ رپل م ڈ ر۔ہیں میرا تو منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ کیا کہ رہے ہیں ٹرپل م ڈر اور وہ بھی ایک عورت نے جی جناب میاں اور دو بیٹیاں۔یا اللہ کیوں آگے کچھ نہیں بولتی۔ خود ہی تھانے آئی اقرار ج رم کیا، اور کونے میں سر جھکا کے بیٹھ گئ۔ پولیس نے ایڈرس لیکر گھر چیک کیا تینوں ل، اش یں وہیں تھیں۔ وہ اب ایدھی والوں نے پولیس کے ساتھ مل کر سول اہسپتال کے سرد خانے میں رکھوا دی ہیں۔تو تو کوئی وجہ نہیں بتائی میری تو زبان میں ہی لکنت آ گئی تھی

۔نہیں اب کچھ بھی نہیں بولتی۔ کہاں ہے میں نے سیل کی طرف دیکھا۔ ایک عورت دیوار کی طرف منہ کئے بیٹھی تھی۔ دبلی پتلی سی ملگجی ساڑی میں۔ صفدر بھائی نے سپاہی خادم حسین کی طرف دیکھا۔ وہ آئیے بی بی جی کہتا ہوا سیل کی طرف چلا، میرا تو دل حلق میں دھڑک رہا تھا۔ بظاہر خوداعتماد نظر آنے کی کوشش کرتے ہوئے سیل کے اندر آ گئ۔ میری آہٹ پر اس نے نظریں اٹھا کر مجھے دیکھا۔ وہ دبلی پتلی کھڑے نقش کی خاصی خوبصورت عورت تھی، صاف رنگت جس میں زردی کھنڈی ہوئی تھی۔ دنگ کر دینے والی چیز اس کے چہرے پر اس کی آنکھیں تھیں۔ بلکل خالی ایسا لگتا تھا کہ اب ان آنکھوں میں بصارت بھی نہیں ہے۔ مگر وہ نابینا نہیں تھی۔تقریبا تیس سے پیتیس سال کی عمر تھی۔ اچھے حالوں اور مناسب جگہ پر ہوتی تو یقینا اس کا شمار خوبصورت عورتوں میں ہوتا۔میں سلام کر کے اس سے مناسب فاصلے پر بیٹھ گئ، مگر اس نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا اور دوبارہ اپنا چہرہ اپنے گھٹنے پر ٹکا کر نظریں زمین پر جما دیں۔

میں نے اپنا تعارف کروایا۔ مگر اس کے وجود میں جنبش بھی نہیں ہوئی۔ میں پندرہ بیس منٹ بیٹھی مگر وہ تو اپنے اطراف سے مکمل طور پر بےنیاز تھی۔ میں سیل کے دروازے کے پاس آ گئ اور سپاھی نے سرعت سے دروازہ کھول دیا۔ میرا لٹکا ہوا چہرہ دیکھ کر صفدر بھائی بہت محضوظ ہوئے۔ پھر کہنے لگے کہ فکر مت کرو ، اب چونکہ دو دن چھٹی ہے اس لئے عدالت میں اس کی پیشی پیر کو ہی ہوگی۔ مگر اب شام ہونے والی ہے اس لئے اس کو اب صدر، عورتوں کے تھانے منتقل کرنا ہو گا۔ تم ایسا کرنا کہ اتوار کو وقت طے کر کے چلی جانا۔ میں وہاں کی انچارج سیدہ غزالہ کو فون کر دونگا اور تم بھی ان کا نمبر نوٹ کرلو۔ان کا نمبر ہے میرے پاس صفدر بھائی، مگر آپ ان کو یاد سے فون کر دیجئے گا۔ خادم حسین موبائل تیار کرو اور اس بی بی کو زنانہ تھانہ چھوڑو جا کر۔چلو روشن میں تم کو گھر چھوڑ دوں، تائی جی کو بھی کھڑے کھڑے سلام کر لونگا۔ ہاں اچھا ہے آپ ساتھ ہونگے تو مجھے ڈانٹ پڑنے کے چانسس کافی کم ہونگے۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ بھئ تمہاری حرکتیں ڈانٹ کھانے والی ہی ہیں۔ چلو رپوٹر بن جائو، پر کرائم رپوٹر بننے کی کیا ضرورت ہےآپ بھی ایسی بات کرینگے صفدر بھائی اچھا پتہ ہے مجھے کراٹے کا بلیک بیلٹ مل گیا ہے۔ میں نے خوشی سے چہکتے ہوئے ان کو بتایا ۔ گڈ ویری گڈ۔

اب تم ایسا کرو شوٹینگ سیکھ لو، لائیسنس میں دلوا دونگا۔ سیلف سیفٹی کے لئے ضروری ہے۔ پیپر اسپرے تو رکھتی ہو نا پرس میں صفدر بھائی نے پوچھا۔جی بھائی وہ تو لازمی ہے۔ اچھا کیس کے بارے میں تو بتائیے نا۔ناگن چورنگی کا چوراہا کراس کرتے ہوئے صفدر بھائی نے کیس کی تفصیلات بتانا شروع کیں۔اس عورت کا نام رقیہ زمان ہے۔ عمر 32 سال ہے۔ اس کا موجودہ میاں اس کا دوسرا شوہر تھا۔ اس کا نام زمان علی تھا، چھ سال پہلے یہ شادی ہوئی تھی۔ پہلا میاں سلیم آفتاب روڈ ایکسیڈنٹ میں ہلاک ہو گیا تھا۔ یہ سیکٹر 11C نارتھ کراچی کی رہائشی ہے۔ ایدھی کا عورتوں کا شلٹر ہوم ہے نا ،اس کے پیچھے والی لائین میں۔ وہاں 120 گز کے مکانات ہیں۔ اس میں عبدل قیوم صاحب کے اوپر والے ادھورے مکان میں کرائےدار کے طور پر رہتی ہے۔ تین سال پہلے اس گھر میں شفٹ ہوئی ہے، اس سے پہلے سرجانی ٹاون میں رہتی تھی۔ عبدل قیوم صاحب اس کی دوست رافعہ جو اس کے ساتھ ہی فیکٹری میں سپروائزر ہے ،کے چچا ہیں۔ اور اسی دوست (رافعہ) کی سفارش پر انہوں نے ان لوگوں کو ضرورت مند سمجھتے ہوئے بغیر ایڈوانس کے اوپر والا پورشن کرائے پر دیا۔

عبدل قیوم صاحب کھاتے پیتے آدمی ہیں ،گھر میں دونوں میاں بیوی اور چھوٹا شادی شدہ بیٹا. یہ چار افراد اور ان کا سات ماہ کا پوتا رہتے ہیں۔ باقی ان کے تین بیٹے خلیج میں کام کرتے ہیں۔ سو آسودہ حال ہونے کے سبب اپنی بھتیجی کے کہنے پر رقیہ کو انہوں نے اوپر کا پورشن کرائے پر دے دیا۔ رقیہ انڈا موڑ پر دھاگہ رنگنے کی فیکٹری میں کام کرتی ہے۔ اسی فیکٹری میں اس کی دوست رافعہ سپر وائزر ہے۔ رقیہ بس ایف اے پاس ہے۔محلے والوں اور عبدالقیوم نے اس کے چال چلن کے نیک اور شریف ہونے کی گواہی دی ہے۔ اپنے کام سے کام رکھنے والی عورت ہے۔ ہاں عبدل قیوم نے یہ اہم بات بتائی کہ میاں بیوی کے درمیان جھگڑا رہتا تھا اور ادھر ہفتے دس دن سے جھگڑے کی شدت بہت بڑھ گئی تھی۔ دو بیٹیاں تھیں، جو پہلے شوہر سے تھیں۔ زمان سے کوئی اولاد نہیں، بڑی بیٹی دس سال کی تھی اور علی علی اسکول میں چوتھی جماعت میں تھی۔ چھوٹی بیٹی سات سال کی اور وہ گونگی بہری تھی۔ بیٹیوں کو زہ، ر دے کے م اور میاں کو کپڑا کوٹنے والے ڈنڈے سے پہ در پہ وار کر کے۔ سو ظاہر ہے کہ انتقامی کاروائی ہے۔ اب ل، اش وں کا پیر کو پ وسٹ م ارٹم ہو گا تو کہانی کھلے گی، یا رقیہ خود بتا دے تو۔

کیس سیدھا سادھا ہے کیونکہ خود ہی اقبال ج رم کر رہی ہے۔ ایک بڑا بھائی ہے رقیہ کا، یونس ، وہ آیا تھا تھانے، زمان اسی کا سالا تھا۔ اس کا بھائی جانتا بہت کچھ ہے مگر انجان بننے کی اداکاری کر رہا ہے۔ہفتے کی رات صفدر بھائی کا فون آیا کہ انہوں نے اتوار ڈھائی بجے کا وقت لے لیا ہے سو میں وقت پر صدر کے زنانہ تھانے پہنچ جاوں۔اتوار کو میں وقت سے دس منٹ پہلے ہی پہنچ گئ۔ ایس۔ اچ۔ او صاحبہ تو نہیں تھیں، مگر وہ میرے متعلق ہدایت دے کر گئی تھیں، لہٰذا انہوں نے فورا مجھے سیل میں پہنچا دیا۔ آج بھی وہ پیٹھ موڑے دیوار کے رخ بیٹھی تھی۔ میں سلام کر کے اس کے قریب بیٹھ گئ اور اپنا تعارف کروایا۔ آج اس کی حالت زیادہ درماندہ تھی، آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے، سرخ انگارہ آنکھیں اور متورم پپوٹے، چہرے پر خطرناک حد تک زردی۔ انتہائی اذیت میں تھی اور ہونا بھی چاہئے تھا۔ کسی فوری اور شدید ردعمل کے طور پر بیٹیوں کو ہلاک تو کر دیا تھا پر اپنی کوکھ اجاڑ کے کون آسان سانس بھر سکتا ہے۔ میں نے اس کہا کہ آپ مجھ سے بات کر سکتی ہیں۔ میرا پولیس یا عدالت کسی سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں صرف ایک انسان کی حیثیت سے آپ کے پاس آئی ہوں۔

آپ جو بھی بتائیں گی وہ آپ کی امانت ہو گی میرے پاس، ہاں اگر آپ چاہیں گی تو میں اس کو پبلک بھی کر دونگی۔ اس دوران مسلسل اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے اور اس کا کمزور جسم ہچکیوں سے ہچکولے کھا رہا تھا۔ تسلی کے الفاظ یقینا بودے ثابت ہوتے اور سچی بات تو یہ ہے کہ میرے پاس وہ الفاظ تھے بھی نہیں جو کچھ اشک شوئی کر سکتے ہوں۔ یہ دنیا کا وہ غم و زخ، م تھا جسکا مداوا و مرہم ہو ہی نہیں سکتا۔اس کو کونے میں رکھے گھڑے سے پانی نکال کر دیا۔ اپنے آپ کو قدرے سنبھال کر اس نے غور سے میری طرف دیکھا اور کہا کہ میرے پاس اس کو م کے علاوہ اور کوئی حل نہیں تھا۔ کس پر چھوڑتی اس کو ماموں پر ماموں نے تو پہلی بار جب سلیم کی موت کے بعد بھیا ہمیں اپنے گھر لے گئے تھے تو ہفتے عشرے کے اندر ہی ہم لوگ بھیا بھابھی کے لئے وبال جان بن گئے تھے۔ باوجود غم سے نڈھال ہونے کے میں نے بھابھی کے گھر کا سارا کام سنبھال لیا تھا تاکہ اپنی اور اپنی بچیوں کی روٹی حلال کر سکوں۔ مگر نہ بھیا کے ماتھے کے بل جاتے تھے اور نہ بھابھی کے لہجے کی کرختگی۔ اللہ سے تو شکایت بھی نہیں کر سکتی. یہ بھی نہیں پوچھ سکتی کہ آخر سلیم کو بلانے کی جلدی کیوں تھی کہتے ہیں جس کا کوئی نہیں اس کا اللہ ہے۔

میں تو آخری لمحے تک کسی معجزہ کا انتظار کرتی رہی، مگر کچھ بھی تو نہ ہوا۔ بھابھی نے زبردستی نکاح نامے پر میرے دستخط لے لئے۔ بھیا نے جتا دیا تھا کہ اگر زمان سے شادی نہیں کی تو فورا سے پیشتر ان کا گھر چھوڑنا پڑے گا۔ میں دو بچیوں کو لیکر کہاں جاتی مجبورا زمان کو ہی تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کیا۔ جو پتہ ہوتا اس دن کا تو اسی دن میں اور بچیاں کچھ کھا کے سو رہتں۔ کاش میں نے ایسا ہی کیا ہوتا تو اذیت سے بھرے یہ چھ سال تو نہ گزارے ہوتے۔ اپنی معصوم بےزبان بیٹی کو عذاب کی بھٹی میں تو نہ جھونکا ہوتا۔ میں کیسی بےخبر ماں تھی جو اپنی بیٹی کی ہی حفاظت نہ کر سکی۔میں نے خاموشی میں ہی عافیت جانی۔ ظاہر ہے اس کی باتیں مربوط نہیں تھی اور ہو بھی نہیں سکتی تھیں۔ جس ٹروما سے وہ گزر رہی تھی، اس سے تو اللہ دشمن کو بھی نہ گزارے۔میں دو ہی بھائی بہن تھی۔ یونس بھیا اور میں۔ شادی سے پہلے ہم لوگ یاسین آباد میں رہتے تھے۔ اچھی زندگی تھی، سادہ کھاتے تھے سکھ سے سوتے تھے۔ ابا پلمبر تھے۔ بھیا کا دل پڑھائی میں نہیں لگتا تھا. حالانکہ ابا کی بڑی خواہش تھی کہ بیٹا بابو صاحب بنے. پر ہر خواہش پوری ہونے کے لئے تو نہیں ہوتی۔

ابا عثمان ہسپتال میں مستقل پلمبر کے طور پر ملازم تھے۔ میں نے اپوا کالج سے ایف۔ اے کیا تھا۔ انہی دنوں بڑی خالہ اماں جو انڈیا میں اعظم گڑھ میں رہتیں تھیں ان کے بیٹے سلیم آفتاب انڈیا سے بی۔ کوم کر کے کراچی گھومنے آئے اور ان کو کراچی کی سحر کاریوں نے ایسا جکڑا کہ یہی کے ہو گئے۔ ابا نے اپنے دوست کی وساطت سے ان کو گل احمد کی ہول سیل لوکیشن میں اکاونٹس ڈپارمنٹ میں کھپوا دیا۔ پھر بڑی خالہ کی خواہش پر سلیم اور میری شادی ہو گئی ۔دوسال بعد بھیا کے کہنے پر بھیا کی شادی ان کے دوست زمان کی بہن سے ہو گئی. سب اچھا چل رہا تھا۔ بھیا کی شادی کے بعد سلیم نے اماں ابا کا گھر چھوڑ دیا کہ اس گھر میں دو ہی بیڈ روم تھے۔ انہوں نے کام سے قریب کرائے پر گھر لے لیا تھا سمینہ دو سال کی تھی جب آگے پیچھے اماں ابا عدم آباد سدھارے۔ جب تک دونوں زندہ تھے مہینے کا ایک اتوار اماں کے گھر گزرتا تھا۔ سمینہ جب تین سال کی ہوئی تو تہمینہ کی پیدائش ہوئی۔ اس دوران بھیا کے گھر بھی کامران کی پیدائش ہوئی۔زندگی باوجود تنگئ حالات کے اچھی تھی۔ اماں ابا کے گزرنے کے بعد بھابھی کے تیور بھی بدلتے گئے۔

سو یہ آنا جانا عید بقرعید تک ہی محدود رہ گیا۔ تہمینہ کی پہلی سالگرہ گزرے دس دن ہی تو ہوئے تھے کہ ہم لوگوں کے نصیب پر کالک پھر گئی۔ سلیم معمول کے مطابق کام پر گئے مگر وآپس آنا نصیب نہیں ہوا۔ سڑک کراس کرتے ہوئے ویگن نے ٹکر م دی اور وہ موقعے پر ہی گزر گئے۔ بھیا ہم لوگوں کو دنیا دکھاوے کو اپنے گھر لے تو ائے تھے مگر ہم لوگ ان کے لئے بار گراں تھے۔ میری عدت بھی نہیں گزری تھی کہ بھیا اور بھابھی نے اپنے بھائی سے شادی کے لئے مجھ پر دباو ڈالنا شروع کر دیا۔ میں ان دنوں غم کی شدت اور مستقبل سے اتنی حراساں تھی کہ نہ چاہتے ہوئے بھی انکے دباو کے زیر اثر آ گئ۔ سلیم کو گزرے بمشکل چھ ماہ ہوئے تھے

کہ بھیا نے زبردستی میرا نکاح زمان سے کروا دیا۔ ان دنوں زمان سرجانی ٹاون میں رہتا تھا۔ شروع کے ایک سال تو ٹھیک رہا۔ بچیوں کے ساتھ اگر اچھا نہیں تھا تو برا بھی نہیں تھا۔ پھر اس کا کام چھوڑ کر گھر بیٹھنے کا دورانیہ بڑھنےلگا۔ شادی کو بمشکل تین سال گزرے تھے کہ مجھے کام کے لئے گھر سے نکلنا پڑا۔میری پڑوسن انڈا موڑ پر دھاگوں کی رنگائی کی فیکٹری میں کام کرتی تھیں، سو ان کی سفارش سے میرا بھی یہاں کام لگ گیا۔ یہیں رافعہ سے دوستی ہوئی اور اس نے اپنے چچا سے کہہ سن کر C 11 میں کرائے پر گھر دلوا دیا۔ سمینہ میری طرح تھی اٹھان میں، دبلی پتلی جبکہ تہمینہ سلیم کے ڈیل ڈول پر تھی۔

سات سال کی تھی پر اپنی عمر سے بڑی لگتی تھی۔ اس کی اٹھان اچھی تھی۔ اس گھر میں آ کے میرے اور زمان کے جھ گڑے میں بہت اضافہ ہو گیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ زمان گھر کے پیچھے بسنے والے خانہ بدوشوں سے چرس خرید کر نشہ کرنے لگا تھا۔ کام کاج کا تو پہلے ہی نہیں تھا اب نشے کی علت بھی لگا لی تھی۔ بھیا بھابھی سے دو تین بار شکایت کی مگر وہی دھاک کے تین پات۔ بھیا نے صاف صاف کہ دیا تھا کہ زمان کی شکایت لیکر مت آیا کرو۔ دنیا کی ہزارہا عورتیں نکھٹو اور نشئی شوہروں کے ساتھ زبان بند کے گزارا کرتیں ہیں، تم بھی کرو۔ میں تو اب سنجیدگی سے خلع کا سوچ رہی تھی بلکہ وکیل سے بھی ملی مگر تہمینہ کی مجبوری آڑے آ جاتی تھی

کہ یہ بےزبان ہے۔نہ سن سکتی ہے اور نہ بول سکتی ہے. اسکول بھی نہیں جاتی۔ زمان جیسا کیسا بھی ہے مگر اس کے گھر میں ہونے کی وجہ سے تہمینہ محفوظ تو ہے۔ میں کتنی بےوقوف تھی۔ کس قدر اندھیرے میں تھی کہ لٹیرے کو محافظ سمجھ رہی تھی۔ادھر تین چار مہینوں سے تہمینہ کی طبیعت گری گری تھی۔ اس کا چونچال پن ختم ہو گیا تھا۔ عجیب سوئی سوئی کفیت میں رہتی تھی۔ محلے کے ڈاکٹر کو بھی دکھایا مگر اس نے طاقت کے کیپسول لکھ دئیے۔مالک مکان قیوم چچا نے مجھ سے ایک دو دفعہ قیوم کی شکایت کی تھی کہ صبح اور دوپہر تک میرے گھر میں عجیب عجیب لوگ آتے ہیں

اور ان کو اتنے لوگوں کی آمد و رفت پسند نہیں۔ میں نے جب زمان سے پوچھا کے میرے پیچھے کون آتا جاتا ہے تو زمان بری طرح بپھر گیا اور قیوم چچا کو مغلظات بکنے لگا، مجھ پر بھی ہاتھ اٹھایا۔ میرا اور زمان کا آئے دن کا جھگڑا رہنے لگا تھا اس کے نشے کی لت کی وجہ سے۔ یہاں تک کے قیوم چچا نے گھر خالی کرنے کا نوٹس بھی دے دیا کہ ہم لوگوں کی وجہ سے ان کے گھر کا سکون برباد ہو رہا ہے. یہ نوٹس اس حادثے سے دو دن پہلے کی بات ہے۔جمعہ کا دن تھا، رات میں بھی زمان سے میرا معرکہ ہوا تھا۔ صبح سے میری طبیت سست تھی۔

سمینہ کو اسکول وین سے اسکول بھیج کر میں نے فقط چائے کا پیالہ پیا۔ زمان بےسدھ سو رہاتھا۔ دوسرے کمرے میں تہمینہ بھی سو رہی تھی۔ اس کو غور سے دیکھا عجیب لاغر اور پیلی پیلی سی، چہرے پر سفید خشکی کے دھبے۔ اچانک میری نظر اس کے گریبان سے نیچے گئ تو وہاں ایک نیل کا نشان تھا۔ میں حیران تھی کہ اس نے یہ چوٹ مجھے کیوں نہیں دکھائی کب لگی یہ چوٹ کیسے لگی یہ چوٹ وہ اشاروں سے اپنا معنی مطلب بتانے پر قدرت رکھتی تھی۔ میں غور سے اس چوٹ کو دیکھا پھر ہلکا سا دبایا، تہمینہ نے کسمسا کر ایک ہلکی سی آہ بھری۔ میں نے فکر مند ہوتے ہوئے اس کے کرتے کا بٹن بند کیا، اس ہاتھ پر کہنی کے پاس بھی باریک باریک نشان تھے ،جیسے مچھر کے ک، اٹے سے ہوتے ہیں۔

میں الجھی الجھی اپنے پیچھے دروازہ بند کر کے سڑھیاں اترتی چلی گئی ۔کام پر میرا زرا دھیان نہیں تھا۔ بار بار وہ سرخی مائل نیل زہن میں چکراتا رہا۔ وہ نشان میرے زہن میں جم گیا تھا اور میرا دل پتے کی طرح کانپ رہا تھا کیونکہ وہ چوٹ کا نشان نہیں لگ رہا تھا ،وہ تو وہ تو دانت سے ک، اٹے کا نشان لگ رہا تھا۔ یا اللہ کیا ہو رہا ہے میں نے رافعہ سے کہا کہ میرا دل دماغ ٹھکانے پر نہیں ہے مجھے چھٹی دے دو۔ اس نے میری وحشت دیکھتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے تم گھر جاو۔ میرے دماغ میں جھکڑ چل رہے تھے۔ میں دبے پاوں سڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر آئی۔ کمرے کا دروازہ بھڑا ہوا تھا اور اور میری معصوم اور بے زبان بچی کپڑوں سے بےنیاز چارپائی پر پڑی تھی اور ایک شخص اس پر جھکا ہوا تھا۔ میری چیخ پر وہ پلٹا۔ میں نے جھپٹ کر اس کو پکڑا لیکن اس نے جھٹکے سے اپنے آپ کو چھڑا لیا اور چھلاوے کی طرح غائب ہو گیا۔ میری چیخ پر دوسرے کمرے سے ن ش ے میں دھت زمان نکلا۔

میں پاگلوں کی طرح تہمینہ کو ڈھک رہی تھی اس کو پکار رہی تھی مگر وہ ساکت تھی۔ اس کے ہونٹوں کے کناروں پر سفید سفید جھاگ سے تھے۔ زمان نے اس کو جھک کر دیکھا، ٹٹولا اور تھوک کر کہا مر گئ سالی، میری دیہاڑی کا زریعہ بھی لے گئی ۔ زمان کے یہ الفاظ سمجھنے میں مجھے کچھ وقت لگا اور جب بات سمجھ میں آئی تو پھر مجھے ہوش نہیں رہا۔ میں نے زمان کو اپنے کمرے میں جاتے دیکھا اور پھر بس میرے ہاتھ میں کپڑا کوٹنے والا ڈنڈا تھا۔ مجھے نہیں پتہ میں نے کہاں کہاں اور کتنی دیر تک زمان کو م ۔ اس وقت تک پیٹتی رہی جب تک کے تھک کے گر نہیں گئ۔

۔ اس نے ایک آواز نہیں نکالی اور ڈھیر ہو گیا۔میرا زہین بہت تیزی سے کام کر رہا تھا۔ سمینہ کے اسکول سے آنے کا وقت ہو رہا تھا۔میں نے جلدی سے خ ون آلود کپڑے بدلے اور وہ کپڑے زمان کے کمرے میں پھینک کر دروازہ اچھی طرح بند کر دیا۔ پھر میں نے ایک جگ روح افزا کا شربت بنایا، اس میں بہت زیادہ چینی ڈالی اور ایک ڈبہ چوہے م دوا۔ اب مجھے بس سمینہ کا انتظار تھا کہ وہ ائے تو اس کو دو گلاس پلا کر باقی شربت خود پیوں۔ تہمینہ کو میں نے اچھی طرح چادر سے ڈھک دیا تھا۔ میری معصوم بچی اوپر ائی اور مجھے دیکھ کر خوش ہو گئ کہ آپ کیسے گھر میں میں نے کہا طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لئے جلدی گھر آ گئ۔ ارے تہمینہ کیوں سو رہی ہے اس نے چارپائی کی طرف قدم بڑھائے۔ مگر میں نے اس کو بیچ میں روک لیا اور اس کو لپٹاتے ہوئے، اس کی پیشانی پر پیار کیا اور کہا لو پہلے شربت پی لو پھر تہمینہ کو اٹھا کر ہم لوگ کھانا کھائے گے۔ اس نے تیزی سے شربت پیا مگر ادھا گلاس پی کر رک گئ۔

امی اس کا مزہ عجیب سا ہے۔نہیں تو تم کو وہم ہو رہا ہے میں نے کانپتے ہاتھوں سے اس کا گلاس دوبارہ بھر دیا۔ وہ میری سادہ لو بچی اس کو بھی پی گئ۔ پھر کہنے لگی لیجیے اب آپ پیجئے۔ یہ کہتے ہوئے اس نے جگ سے گلاس میں شربت انڈیلنا چاہا مگر شاید ہاتھوں میں پسینے کی وجہ سے یا کس وجہ سے جگ اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر گر گیا۔ ساتھ ہی میری چیخ بھی نکلی مگر اسی اثنا میں سمینہ بھی دھڑام سے شربت سے گیلی زمین پر گر کر تڑپنے لگی اور بیس منٹ کے اندر اندر تڑپ تڑپ کر میرے بازوں میں م ر گئ۔ میں نے اس کو اٹھایا اور تہمینہ کے برابر لیٹا کر چادر اوڑھا دی۔ دروازے کو بھیڑا اور تھانے آ گئی ۔مجھے تو موت نے بھی قبول نہیں کیا۔ میرے جیسی بےخبر اور ظالم ماں کی موت بھی بہت عبرتناک ہونی چاہئے۔ پتہ ہے بیٹیوں کی ماؤں کو کبھی دوسری شادی نہیں کرنی چائیے۔ وہ اپنے لئے سائبان بناتے بناتے اپنی بیٹیوں کو تپتی دھوپ میں کھڑا کر دیتی ہیں۔

میں نے بچیوں کی حفاظت کے خیال سے زمان کا ساتھ قبول کیا تھا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ درندہ اس کو نشے پر لگا کر اس کی عزت نیلام کر رہا ہے۔ وہ غریب تو نشے کے زیر اثر رہتی تھی۔ مجھے بھی کچھ نہیں بتایا۔ کب سے یہ سلسلہ چل تھا میں نہیں جانتی۔ ہائے کیسی بےخبر ماں ہوں میں۔ مجھے تو نشان عبرت بنا دینا چاہئے۔ یہ کہ کر وہ سر پیٹ پیٹ کر رونے لگی۔ اپنا سر دیوار سے ٹکرانے لگی ۔ بڑی مشکل سے اس کو قابو کیا گیا۔ پھر ایک دم سے اس کا جسم ڈھیلا ہوا اور وہ بےہوش ہو گئی ۔لیڈی پولیسں اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے م رہی تھی. اس کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھی۔ میرا دل چاہا کہ میں اس کو منع کر دوں۔

ہوش میں لانے والی کوششوں کو رکوا دوں کہ کچھ دیر ہی سہی وہ ہوش سے بےگانہ رہے۔ اس اذیت سے تو آزاد رہے۔ نیند اور بےہوشی بھی کتنی بڑی نعمت ہیں ،کچھ لمحوں کے لئے ہی سہی آپ اپنے غموں سے آزاد ہو جاتے۔ بھول جاتے ہیں سب کچھ۔ درد کی وہ شدت جس کو آپ ہوش میں سہہ نہیں سکتے، بےہوشی ان سب سے مکتی دے دیتی ہے۔بھلے قیامت کا دن معین ہے پر رقیہ نے تو اپنے حصے کی قیامت دیکھ لی۔ ہم سب کی نجی قیامت بھی تو ہوتی ہے۔ انسان کی زندگی میں کئی قیامتیں ہوتیں ہیں قیامت کبرا سے پہلے۔رقیہ اپنی قیامت جھیل چکی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.