بریکنگ نیوز!!سپریم کورٹ سے اسد عمر سمیت 3 وفاقی وزرابارے بری خبر آ گئی

سپریم کورٹ نے سٹیل ملز ملازمین کی پروموشن سے متعلق کیس میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور وزیر نجکاری کو فوری طلب کرلیا،عدالت نے وزیر صنعت و پیداوار کو بھی طلب کرلیا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آج سے کسی ملازم کو ادائیگی نہیں ہو گی ۔ نجی ٹی وی 92 نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں سٹیل ملز ملازمین

کی پروموشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس پاکستان نے سٹیل ملز کی حالت زار کا ذمہ دار انتظامیہ کوقرار دیدیا۔چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ انتظامیہ کی ملی بھگت کے بغیر کوئی غلط کام نہیں ہوسکتا،کیا حکومت نے سٹیل ملز انتظامیہ کیخلاف کارروائی کی ؟۔چیف جسٹس نے سٹیل ملز انتظامیہ کی سخت سرزنش کرتے ہوئے

کہاکہ ملز بند پڑی ہے تو انتظامیہ کیوں رکھی ہوئی ہے ؟،بند سٹیل ملز کو کسی ایم ڈی یا چیف ایگزیکٹو کی ضرورت نہیں ،سٹیل ملز انتظامیہ اور افسران قومی خزانے پر بوجھ ہیں،ملازمین سے پہلے تمام افسران کو سٹیل ملز سے نکالیں ۔وکیل پاکستان سٹیل ملز نے کہاکہ تمام انتظامیہ تبدیل کی جاچکی ہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ انتظامیہ تبدیل کرنے سے کیا ملز فعال ہو جائے گی ۔وکیل ملز نے کہاکہ سٹیل ملز کے روزانہ کے

خرچے کو 2 کروڑ سے کم کرکے ایک کروڑ کردیاگیا ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آج سے کسی ملازم کو ادائیگی نہیں ہو گی ، جب ملز نفع ہی نہیں دیتی تو ادائیگیاں کس بات کی،ملازمین کو بیٹھنے کی تنخواہ تو نہیں ملے گی،وکیل ملازمین نے کہاکہ سٹیل ملز ملازمین کام کرنے کو تیار ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ملز میں بعض لوگوں نے بھرتی سے ریٹائرمنٹ تک ایک دن کام نہیں کیا،ملزکا212 ارب کا قرضہ کون اداکریگا؟۔چیف جسٹس پاکستا ن نے کہاکہ مینجمنٹ اورورکرز کوادارے کا احساس ہی نہیں،مفت کی دکان سے جس کاجی چاہے لے جاتا ہے،سٹیل ملز کو کسی بھی ورکریا افسر نے اپنا خون نہیں دیا،جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ ملز بند ہے لیکن ملازمین ترقیاں مانگ رہے ہیں ،سٹیل ملز کبھی ہماری معیشت کی ریڑھی کی ہڈی ہوتی تھی ۔چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ ورکراپنے پیسے لینے کیلئے ٹریک پر لیٹ جاتے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور وزیر نجکاری کو فوری طلب کرلیا،عدالت نے وزیر صنعت و پیداوار کو بھی طلب کرلیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.