سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس،ووٹ فروخت کرنےوالوں کے خلاف کارروائی ہوگی یانہیں؟عدالت نے بتادیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کوئی بھی قانون منتخب عوامی نمائندے کو پارٹی امیدوار کو ووٹ دینے کا پابند نہیں کرتا تاہم ووٹ فروخت کرنے کے شواہد پر ہی کوئی کارروائی ہوسکتی ہے۔کیس کی سماعت کے دوران جسٹس

اعجا ز الاحسن نے اٹارنی جنرل کیساتھ مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے دن سے مجھے اس سوال کا جواب نہیں مل رہا، پارٹی کے خلاف ووٹ دینے پر نااہلی نہیں ہو سکتی تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ صدر مملکت جاننا چاہتے ہیں اوپن بیلٹ کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے یا نہیں،سینٹ الیکشن میں پارٹی امیدوار کو ووٹ لازمی دینے کا کوئی قانون نہیں۔جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ کوئی قانون منتخب رکن کو پارٹی امیدوار کو ووٹ دینے کا پابند نہیں کرتاتاہم ووٹ فروخت کرنے کے شواہد پر ہی کوئی کارروائی ہوسکتی ہے۔حکومت نے قانون سازی کرنی ہے تو کرے مسئلہ کیا ہے؟جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ ریفرنس پر عدالتی رائے حتمی فیصلہ نہیں گی،حکومت کو ہر صورت قانون سازی کرنا ہوگی۔چیف جسٹس گلزاراحمد نے دوران سماعت ریماکس دیئے کہ عدالت میں مقدمہ آئینی تشریح کا ہے، عوام اراکین اسمبلی کو اس لیے منتخب نہیں کرتے کہ وہ اپنی خدمت کرتے رہیں،ووٹرز تو کہتے ہیں ارکان اسمبلی ہماری خدمت کیلئے ہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ پارٹی کو چاہیے کہ عوام کو بتائے کس رکن نے دھوکہ دیا۔اٹارنی جنرل نے عدالت میں بتایا کہ وزیراعظم نے کمیٹی بنائی تھی جس کی سفارش پر کارروائی ہوئی،کارروائی پر وزیراعظم کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ بن گیا،سزا دینے کے لیے آرٹیکل 63 اے میں ترمیم ہونی چاہیےاورعوام کو علم ہونا چاہیے کس نے پارٹی کے خلاف ووٹ دیا،اوپن بیلٹ کے ذریعے ووٹنگ کرانا سیاستدانوں کو گندا کرنا نہیں ہے ۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں پارٹی کے خلاف ووٹ دینے والوں کا احتساب 5سال بعد ہو،وزیراعظم کو کیسے علم ہوا تھا کہ 20 ایم پی ایز نے ووٹ بیچا؟پارٹی کو ووٹ نہ دینے پر نااہلی نہیں تو یہ تبدیلی صرف دکھاوا ہوگی۔عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ اوپن ووٹنگ میں بھی ووٹ فروخت کرنے کے شواہد نہ ہوں تو کچھ نہیں ہو سکتاتاہم اگر ووٹ فروخت کے شواہد پر ہی کوئی کارروائی کی جاسکتی ہے ۔بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کرد ی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.