ٹیلیفون پر گفتگو ،وزیراعظم عوام کو کس چیز کا مشورہ دیتے رہے،یقین کرنا مشکل

ٹیلیفون پر گفتگو ،وزیراعظم عوام کو کس چیز کا مشورہ دیتے رہے،یقین کرنا مشکل اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے پیر کو ٹیلی فون پر عوام کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے تبدیلی کیلئے مزید انتظار کا مشورہ دیا۔ اپوزیشن کو این آر او نہ دینے کا موقف دہرایا اور فٹنس کے بارے میں بھی مفید ٹپس دیں۔ایک شہری

نے سوال کیا کہ معیشت کب بہتر ہوگی اور مہنگائی سے کب جان چھوٹے گی۔ عمران خان نے جواب دیا کہ پرانے سسٹم کو ٹھیک کرنے میں وقت لگتا ہے۔ کوئی جادو کی چھڑی نہیں جو جلد از جلد سب ٹھیک ہوجائے۔ اقتدار میں آئے تو روپے پر بہت دباؤ تھا۔ ڈالر گرتا ہے تو مہنگائی بڑھتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ انہیں احساس ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے عوام مشکل میں ہیں۔ روپیہ گرتا ہے تو ڈالرز سے آنے والی چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں اور ہم 70 فیصد دالیں باہر سے امپورٹ کرتے ہیں۔ ملک درست سمت میں چل پڑا ہے۔ اب ڈالرز آئیں گے۔اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکو مل کردباؤ ڈال رہے ہیں۔ لیکن انہیں آین آراو نہیں ملے گا۔ اپوزیشن کو این آراو دینا ہے تو جیل میں قید دیگر لوگوں کا کیا قصور ہے۔عمران خان نے کہا کورونا ویکیسن میں کسی غریب اور امیر کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کیا جائے گا۔ پہلے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس پھر ساٹھ سال سے اوپر لوگوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔ جس کو پہلے ضرورت ہوگی، اس کو ترجیح دی جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان اور گلگت بلتستان سمیت دور دراز علاقوں کی ترقی کا پورا پلان موجود ہے۔ بلوچستان سے نکلنے والے معدنی ذخائر کا منافع بلوچستان میں خرچ کی جائے جبکہ گلگت بلتستان کو سیاحت کا حب بنائیں گے۔عمران خان نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ اپوزیشن نے فارن فنڈنگ کیس میں خود کو عذاب میں ڈال دیا ہے۔ ہمارے پاس چالیس ہزار ڈونرز، ان کے ایڈریس اور فون نمبرز ہیں۔ اپوزیشن اپنے سو ڈونرز کی تفصیلات بتائے۔ پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جس نے پولیٹیکل فنڈ ریزنگ کی۔صحت سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے بڑھتے وزن کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ نوگھنٹے کرسی پر بیٹھنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وزن دوسو پاؤنڈ تک جاپہنچا ہے۔ مصروفیت کی وجہ سے ورزش کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ کرکٹ کھیلتے ہوئے وزن 185 پاؤنڈ سے زیادہ نہیں تھا۔ جسم نعمت ہے۔ نعمت کا دھیان رکھنے سے بیماریاں نہیں ہوتیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.