آئندہ پنشن لینی ہے تو یہ کام کرنا ہو گا اسکے علاوہ پنشن نہیں ملے گی ۔

گھوسٹ پنشنرز سے جان چھڑوانے کیلئے منصوبہ تیار، آئندہ بنا بائیو میٹرک تصدیق کےبغیر کسی پنشنز کو پنشن نہیں ملے گی، ہر سال 2 مرتبہ بائیو میٹرک تصدیق کروانا ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے قومی خزانے پر پنشنرز کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو حل کرنے کیلئے حکمت حکمت
عملی تیار کر لی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس وقت گھوسٹ

پنشنرز کی بڑی تعداد موجود ہے جو قومی خزانے کو ٹھیک ٹھاک نقصان پہنچا رہی ہے۔اب حکومت نے ہر پنشنرز کی بائیو میٹرک تصدیق کا نظام رائج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نظام کے رائج ہونے کے بعد کسی بھی پنشنرز کو بنا بائیو میٹرک تصدیق کے پنشن نہیں ملے گی۔ ہر پنشنرز کو 6 ماہ بعد بینک جا کر بائیو میٹرک تصدیق کروانا ہوگی۔اگر کوئیپنشنرز 6 ماہ تک پنشن نہیں نکلواتا، تو اس کا اکاونٹ غیر فعال کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے سرکاری ملازمین کی پنشن ختم کرنے کی شرط عائد کردی، آئی ایم ایف شرط رکھی کہ سرکاری ملازمین ایک ہی بار گولڈن ہینڈ شیک دے کر فارغ کردیں،وزیراعظم کو کھڑے ہونا چاہیے کہ کووڈ کی وجہ سے سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے فارغ نہیں کرسکتے۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہا کہ حکومت کے پاس اطلاعات ہیں کہ بڑے پیمانے پر سرکاری ملازمین احتجاج یا دھرنا دینے کی تیاری میں ہیں۔آئی ایم ایف کے ساتھ ایک اجلاس ہوچکا ہے کہ سرکاری ملازمین کی پنشن ختم کردیں، سرکاری

ملازمین ایک ہی بار گولڈن ہینڈ شیک ، پیسا دے کر فارغ کردیں۔ جبکہ آئندہ کیلئے پنشن بالکل ختم کردیں، آئی ایم ایف کی شرائط بڑی عجیب سی ہیں، وزیراعظم عمران خان کو چاہیے اس معاملے میں خود مداخلت کریں اور اسٹینڈ لیں ۔وزیراعظم بات کریں کہ دنیا بھر میں اس وقت کورونا کی صورتحال سے معیشت دوچار ہے، لوگ پہلے ہی بڑے مسائل میں ہیں۔ ابھی چار پانچ ماہ ٹھہر جائیں اس کے بعد ہم اس پر نظرثانی کرسکتے ہیں،اس لیے موجود ہ حالات میں لوگوں کو نوکریوں سے نہیں نکال سکتے۔ سرکاری ملازمین نے قلم چھوڑ ہڑتال کی امید ہے کہ معاملہ حل ہوجائے۔ واضح رہے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا گزشتہ روز کہنا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ مالی سپورت پروگرام کی بحالی کے لیے مذاکرات کر رہا ہے اور کورونا وائرس کے برے اثرات کے باوجود معیشت میں بہتری

کے لیے پرامید ہوں۔ہمیں امید ہے کہ مارکیٹ اور دنیا کے لیے اچھی خبر ہوگی کیونکہ ہم پروگرام کو بحال کر رہے ہیں۔ دونوں فریقین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اور پاکستان کو جی ڈی پی کی کم شرح بڑھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف دونوں ملک میں آئی ایم ایف کی مدد سے معاشی اصلاحات پر کام کر رہے ہیں جس میں خاص کر ٹیم کی وصولی، معیشت کے

استحکاماور مالی خسارے کو ختم کرنا ہے۔گوکہ بیل آٹ پیکیج اب تک زیرالتوا ہے لیکن پاکستان کو آئی ایم ایف سے ہنگامی طور پر 14 لاکھ ڈالر موصول ہوچکے ہیں تاکہ کورونا وبا کے باعث ہونے والے اخراجات اور معیشت کے اثرات پر وقتی طور پر قابو پایا جائے۔ حکام کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف کے پیکیج سے پاکستان کو اپنی مالی پوزیشن بہتر کرنے اور عالمی سطح پر معاشی اعتماد کی بحالی میں مدد ملے گی۔پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ تیریسا ڈیبن سانچیز کا کہنا تھا کہ ‘پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کی ٹیمیں جڑی اور مذاکرات میں لگی ہوئی ہیں، دونوں ٹیمیں سخت محنت کر رہی ہیں اور پروگرام کی بحالی کے مثبت نتائج کے لیے کام کر رہی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.