”وفاداری کی نئی مثال قائم “ مالک کی وفات پر گھوڑے نے ایسا کیا کام کیا کہ دیکھنے والے روپڑے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اس دنیا میں سب سے مشکل کام وہ غم برداشت کرنا ہے جو اس دنیا کو چھوڑ دینے والے اپنے پیچھے ان لوگوں کو دے جاتے ہیں جنہیں عمر بھر اپنے بچھڑ جانے والے پیاروںکی جدائی برداشت کرنی ہوتی ہے۔ یہ جذبہ صرف انسانوں میں ہی نہیں بلکہ جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک تازہ ترین مثال لوگوں نےاس وقت دیکھی.

 

جب برازیل کے ایک شخص کا گھوڑا اس کی وفات پر رو پڑا ۔ تفصیلات کے مطابق 34 سالہ واگنر ڈی لیما کے گھر والے اور دوست احباب اس وقت حیران رہ گئے جب اس کے گھوڑے سرینو نے اپنا سر تابوت پر رکھا اور ایسے رونے اور آہیں بھرنے لگا جیسے اپنے مالک کی موت پر صدمے کا اظہار کر رہا ہے۔گھوڑے کی مالک کے ساتھ اس محبت سے متاثر ہوکر واگنر کا بھائی اسے بھی جنازے کے ساتھ قبرستان لے گیا۔واگنر کی آخری رسومات 3 جنوری کو شمال مشرقی برازیل کے شہر پرائیبا میں ادا کی گئی۔ واگنر نئے سال کے پہلے دن موٹر سائیکل کے حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا جہا ں اس کے دو آپریشن ہوئے مگر وہ جانبر نہ ہوسکا۔قبرستان جاتے ہوئے بھی سرینو سارے رستے روتا اور زمین پر پائوں مارتارہا اور یوں ایک بار پھر گھوڑے نے جانوروںمیں سب وفادار ہونے کا ثبوت پوری دنیا کے سامنے پیش کر دیا ۔ دوسری جانب دنیا کا سرد ترین رہائشی مقام روس کا ایک قصبہ ویمیا کون ہے جہاں درجہ حرارت منفی 52 تک چلاجاتا ہے، سردیوں میں یہاں سورج صرف 3 گھنٹوں کے لیے طلوع ہوتا ہے۔تفصیلات کے مطابق قطب جنوبی میں درجہ حرارت اس قدر کم ہے منفی 92 ڈگری سینٹی پر بھی چلا جاتا ہے لیکن روس میں ایک گاؤں ایسا ہے جسے دنیا کا سب سے سرد ترین قصبہ(رہائشی مقام) قرار دیا گیا ہے۔ یہ دنیا کا سرد ترین رہائشی علاقہ ہے جہاں سردیوں میں سورج صرف تین گھنٹے کے لیے طلوع ہوتا ہے۔

 

اور گرمیوں میں دن21 گھنٹے تک ہوجاتا ہے۔یہ قصبہ دریائے انڈیگر کے کنارے واقع ہے ،اس قصبے کی کل آبادی 800 افراد پر مشتمل ہے، یہ مستقل طور پر منجمد اور سرد ترین علاقہ ہے جو ہر وقت خوفناک سردی کی لیپٹ میں رہتا ہے جس کا درجہ حرارت منفی 52 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے چلاجاتا ہے۔ یہاں کی سردی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کسی عمارت سے کھولتا ہوا پانی پھینکا جائے تو وہ زمین پر گرنے سے قبل ہی برف میں تبدیل ہوجاتا ہے۔اس گاؤں میں سال 1924 میں تاریخ کا کم ترین درجہ حرارت منفی 71 تک ریکارڈ کیا گیا تھا‌،حیرت انگیز طور پر گاؤں کے مکینوں نے اپنے آپ کو ماحول کے مطابق ڈھال لیا ہے۔سال بھر برف کی چادر اوڑھے اس گاؤں کے مکینوں کی خوراک قطبی ہرن اور گھوڑے کا گوشت ہے جب کہ مشروب کے طور پر گھوڑے کے دودھ کا استعمال عام ہے یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ غذائیت کی کمی کا شکار نہیں ہوتے۔پورے گاؤں کے لیے ایک چھوٹی سی دکان ہے جہاں روزمرہ ضروریات کی چیزیں دستیاب ہوتی ہیں جب کہ راستے میں ایک پیٹرول پمپ بھی ہے جو سیاحوں کو اگلے سفر کے لیے تیار رکھتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کے مکین سارا دن اپنی گاڑیاں چلاتے رہتے ہیں کہ مبادا ایک بار گاڑی بند کی تو انجن مکمل طور پر ہی بند نہ ہو جائے کیوں کہ سخت سردی کے باعث بیٹری ڈاؤن ہوجاتی ہے۔گاؤں اب بھی جدید سہولتوں سے محروم ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.